Technology
نانیا ٹیکنالوجی چوری کیس: چینی حریف کو راز فراہم کرنے کی کوشش ناکام
تائیوان کی مشہور سیمی کنڈکٹر کمپنی نانیا کے ایک انجینئر کو چپ بنانے کی خفیہ ٹیکنالوجی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم نے اس حساس ڈیٹا کو چین منتقل کرنے کے لیے سنیکس کے بیگ میں 360 ڈگری کیمرہ چھپا رکھا تھا۔
تائیوان کی معروف سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی نانیا (Nanya) کے ایک انجینئر کو حریف چینی کمپنی کو حساس نوعیت کی ڈی ریم (DRAM) مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی چوری کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم انجینئر کا مقصد اس خفیہ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے چین میں کسی دوسری کمپنی سے زیادہ تنخواہ پر ملازمت حاصل کرنا تھا، تاہم کمپنی کی آئی ٹی سیکیورٹی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کے تمام منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے انتہائی چالاکی کے ساتھ کھانے کے سنیکس کے ایک خالی بیگ کے اندر 360 ڈگری کا چھوٹا کیمرہ چھپا رکھا تھا تاکہ پروڈکشن یونٹ اور لیبارٹری کے حساس عمل کی ریکارڈنگ کی جا سکے۔ وہ اس کیمرے کے ذریعے مینوفیکچرنگ کے پیچیدہ طریقہ کار اور رازوں کو محفوظ کر کے غیر ملکی عناصر تک پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم، نانیا کی سیکیورٹی ٹیم کی کڑی نظر اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز نے کیمرے کی موجودگی اور اس کی مشکوک حرکات کو فوری طور پر ٹریس کر لیا۔
کمپنی کی جانب سے فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس گھناؤنی حرکت کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ اب اس انجینئر کو سنگین نوعیت کے قانونی چیلنجز اور قید کی سجا کا سامنا ہے۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں اس طرح کی صنعتی جاسوسی کے واقعات نے دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔