LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور حکومت کے اعلیٰ سطح مذاکرات

News Image
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی مسلسل ہڑتال کے باعث ملکی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کراچی میں اہم مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ نویں روز میں داخل ہونے والی اس ہڑتال کے خاتمے کے لیے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی فوری اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نویں روز میں داخل ہو چکی ہے جس کے باعث ملک بھر کی اہم بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں اور درآمدی و برآمدی عمل شدید ترین دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہڑتال کے اس طویل تسلسل کی وجہ سے تجارتی مال کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے کاروباری برقی اور صنعتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پیدا ہونے والے اس سنگین معاشی بحران کے تدارک کے لیے اب حکومت نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ متوقع مذاکرات کا بنیادی مقصد ٹرانسپورٹرز کے تحفظات کو دور کرنا اور درپیش مسائل کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ اسی تناظر میں آج کراچی میں حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے درمیان انتہائی اہم اور فیصلہ کن ملاقات طے پا گئی ہے جہاں تمام مطالبات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PHMA) نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ہڑتال کا خاتمہ کریں تاکہ ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برآمدی شعبہ پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور ٹرانسپورٹ کی بندش سے بین الاقوامی خریداروں کو وقت پر مال کی ترسیل کا عمل روک گیا ہے۔ معاشی ماہرین اور کاروباری شخصیات کی نظریں اب کراچی میں ہونے والے ان مذاکرات پر مرکوز ہیں کیونکہ تاجر برادری کا ماننا ہے کہ اگر یہ بات چیت کامیاب ہو جاتی ہے تو بندرگاہوں پر رکے ہوئے تجارتی کنٹینرز کی روانی بحال ہو سکے گی اور ملک کا معاشی پہیہ ایک بار پھر پوری رفتار سے چل پڑے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ اس طویل ہڑتال کو ختم کر کے معمول کی کاروباری سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔