Technology
انترھوپک سی ای او کا اوپن ویٹس ماڈلز پر اہم بیان
انترھوپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے حالیہ مباحثوں کے درمیان اوپن ویٹس اے آئی ماڈلز کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس موضوع پر امریکی حکام اور تکنیکی ماہرین کے درمیان بحث جاری ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف کمپنی انترھوپک کے سی ای او ڈاریو امودی نے حال ہی میں اوپن ویٹس ماڈلز، بالخصوص چین سے تعلق رکھنے والی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے جاری بحث پر تفصیلی مؤقف پیش کیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران عالمی سطح پر اس بات پر کافی گرما گرم بحث دیکھی گئی ہے کہ اوپن ویٹس اے آئی ماڈلز کے سیکیورٹی اور معاشی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض امریکی حکام اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ ڈاریو امودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ضوابط اور اس کی ترقی کی رفتار پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ اے آئی انڈسٹری میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اوپن سورس یا اوپن ویٹس ماڈلز کو کھلی چھٹی دی جانی چاہیے یا پھر ان پر سخت حکومتی اور بین الاقوامی قدغنیں عائد کی جانی چاہئیں تا کہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے ماڈلز جہاں ایک طرف تحقیق اور ترقی کو تیز کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کے غلط استعمال کے خدشات کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انترھوپک کے سربراہ کی جانب سے اس حساس موضوع پر بات چیت سے توقع کی جا رہی ہے کہ پالیسی سازوں اور ٹیک کمپنیوں کے مابین اس مباحثے کو ایک نئی سمت ملے گی۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اوپن ویٹس اے آئی ٹیکنالوجی کی درآمد، برآمد اور فراہمی کے حوالے سے مزید سخت قواعد و ضوابط متعارف کروائے جائیں، جن کا مقصد تکنیکی برتری کو برقرار رکھنا اور ممکنہ سیکیورٹی رسک کو کم سے کم کرنا ہے۔