LIVE
Loading Breaking News...

ایران آبنائے ہرمز تنازع اور ٹرمپ کا تیل کی قیمتوں پر مؤقف

News Image
ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ اہم مطالبات نہیں مانتا آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا۔ دوسری جانب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے تیل کی بلند قیمتیں ناگزیر ہیں۔
ایران نے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس گزرگاہ کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک امریکہ کی جانب سے اہم مطالبات پر لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ تہران حکومت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور اسٹریٹجک منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین بھی اس حوالے سے ایک اہم قانون سازی پر غور کر رہے ہیں جس کا مقصد اس بحری راستے کی کڑی نگرانی اور بیرونی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے اثرات شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تہران میں سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو اس گزرگاہ سے روکنے کے لیے عام اصولوں پر اتفاق کر لیا ہے جس سے خطے میں ممکنہ معاشی اور عسکری محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ادھر امریکہ میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتیں دراصل امریکی معیشت کے استحکام اور توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش دنیا بھر میں خام تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تمام فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی امن کے علمبرداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر کے مالیاتی اور توانائی کے ادارے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بحران کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان سفارتی سطح پر کوئی لچک دکھائی جاتی ہے یا نہیں، تاہم فی الحال صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔