World
اسرائیل کا مغربی کنارے کا کنٹرول سویلین پولیس کے حوالے، الحاق کی تصدیق
اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے امور کو سویلین پولیس کے سپرد کرنے سے علاقے میں عملاً الحاق کا عمل پختہ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے سے انتہا پسند آباد کار ملیشیاؤں کو مزید قانونی تحفظ اور طاقت ملے گی۔
تل ابیب: اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے انتظامی اور پولیسنگ امور کو باضابطہ طور پر سویلین فورسز کے حوالے کرنے کا انتہائی اہم اور متنازعہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے علاقے کے 'عملاً الحاق' (de facto annexation) کی طرف ایک فیصلہ کن اور خطرناک قدم قرار دیا ہے۔ اس نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت مغربی کنارے کے اندرونی امور اور سیکیورٹی معاملات اب روایتی فوجی کمان کے بجائے سویلین پولیس کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے، جس کے دور رس سیاسی اور جغرافیائی اثرات مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف اسرائیل کا فوجی غلبہ مستقل قانونی شکل اختیار کر رہا ہے بلکہ زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے سے مقبوضہ علاقوں میں سرگرم انتہا پسند یہودی آباد کار ملیشیاؤں کو براہ راست تقویت ملے گی۔ ماضی میں بھی ان ملیشیاؤں پر فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد اور زمینوں پر قبضے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، تاہم سویلین پولیس کے کنٹرول میں آنے کے بعد اب انہیں قانونی اور انتظامی سطح پر مزید چھوٹ اور تحفظ ملنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے مغربی کنارے میں بسنے والے لاکھوں فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی مزید اجیرن ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ مقامی پولیس کے نفاذ سے ان پر پابندیاں اور نقل و حرکت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ اور کئی مغربی ممالک بھی مغربی کنارے کے الحاق کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس نئے اقدام کے بعد علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے اس کے خلاف شدید ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔