LIVE
Loading Breaking News...

امریکی جنگ سے ایرانی معیشت تباہ، عوام کی مشکلات میں اضافہ

News Image
امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے منفی اثرات نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ملک میں مہیا اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور عوام کے پاس اب بچاؤ کے بہت کم ذرائع باقی بچے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرات نے ایران کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا اور روزمرہ کے بنیادی اخراجات پورے کرنا ایک روزانہ کا امتحان بن چکا ہے۔ معاشی پابندیوں اور اندرونی دباؤ کے باعث ملکی معیشت گہرے بحران کا شکار ہے، جس نے عام آدمی کی قوت خرید کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگی صورتحال اور تناؤ کی فضا نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے اور اشیائے خوردونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے درآمدی اشیاء عام عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس مخدوش معاشی صورتحال میں مڈل کلاس اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جن کی آمدنی مہنگائی کے تناسب سے بالکل نہیں بڑھ رہی۔ حکومتی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ شہری علاقوں سے لے کر دیہی آبادی تک، ہر جگہ بے روزگاری اور مہنگائی کا شور ہے اور لوگوں کے پاس آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کشمکش کا خمیازہ ہمیشہ کی طرح عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ان کے پاس اب زندگی گزارنے کے لیے بہت کم اختیارات رہ گئے ہیں۔ عالمی برادری اور اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو سفارتی سطح پر حل نہ کیا گیا اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی نہ لائی گئی، تو ایران میں انسانی اور معاشی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کو اس تباہ کن معاشی دلدل سے نکالا جا سکے، جو اس جنگ کا براہ راست شکار ہو رہے ہیں۔