Technology
ای ویسٹ سے سونا نکالنے کا نیا الیکٹرک اور کیمیکل سے پاک طریقہ
یونیورسٹی آف الینوائے کے ماہرین نے ای ویسٹ سے سونا بازیافت کرنے کے لیے ایک نیا مالیکیول تیار کیا ہے جو روایتی کیمیائی طریقہ کار کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔ اس الیکٹرک اور ماحول دوست طریقے سے دھاتوں کی بازیابی زیادہ آسان اور محفوظ ہو گئی ہے۔
یونیورسٹی آف الینوائے کے محققین نے الیکٹرانک کچرے یعنی ای ویسٹ سے قیمتی دھاتیں بالخصوص سونا بازیافت کرنے کے لیے ایک انقلابی اور انتہائی جدید طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق، ماہرین نے ایک ایسا نیا مالیکیول تیار کیا ہے جو بجلی کی مدد سے ای ویسٹ میں موجود سونے کو الگ کرتا ہے اور اس عمل میں خطرناک کیمیائی ری ایجنٹس کی ضرورت کو یکسر ختم کر دیتا ہے۔ دو سال قبل اسی ادارے کے محققین نے یہ ثابت کیا تھا کہ بجلی کے استعمال سے کم کیمیکلز کے ذریعے سونا نکالا جا सकता ہے، تاہم اب اس نئے مالیکیول کی دریافت نے باقی ماندہ کیمیائی مرحلے کو بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر الیکٹرانک کچرے کی مقدار میں دن بہ دن خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس میں پرانے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک آلات شامل ہیں۔ ان ناکارہ آلات میں سونا، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتیں بڑی مقدار میں پائی جاتی ہیں، لیکن ان کو نکالنے کے لیے روایتی طور پر نہایت خطرناک اور زہریلے کیمیکلز مثلاً سائینائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ماحول کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ مزدوروں کی صحت کے لیے بھی شدید خطرہ بنتے ہیں۔ اس نئی سائنسی پیش رفت کے بعد اب بغیر کسی نقصان دہ کیمیکل کے صرف بجلی اور مخصوص مالیکیول کی مدد سے سونے کو محفوظ طریقے سے الگ کیا جا سکے گا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نہ صرف روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہے، بلکہ اس کی لاگت بھی کم ہے جس سے تجارتی پیمانے پر ای ویسٹ ری سائیکلنگ کو فروغ ملے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ماحول کو آلودگی سے بچانے میں بھی بڑی مدد ملے گی کیونکہ زہریلے کیمیکلز کا اخراج کم سے کم ہو جائے گا۔ یونیورسٹی آف الینوائے کی یہ تحقیق مستقبل میں ری سائیکلنگ کی صنعت کا نقشہ بدل سکتی ہے اور الیکٹرانک فضلے کے انتظام کے لیے ایک پائیدار اور موثر حل فراہم کرتی ہے۔