LIVE
Loading Breaking News...

ترین گروتھ ای ٹی ایف کا تقابل: SCHG বনাম QQQ বনাম VUG

News Image
مختلف معروف گروتھ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف) کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے جس میں کیو کیو کیو نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ ماہرینِ مالیات آئندہ آنے والے برسوں کے لیے ان سرمایہ کاری کے ذرائع کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
سرمایہ کاری کی دنیا میں ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ای ٹی ایف کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، بالخصوص گروتھ ای ٹی ایف نے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ حالیہ تجزیے میں تین بڑے گروتھ فنڈز، جن میں ایس سی ایچ جی، کیو کیو کیو اور وی یو جی شامل ہیں، کی کارکردگی کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ان فنڈز نے نمایاں اتار چڑھاؤ کے باوجود طویل مدتی سرمایہ کاروں کو خاطر خواہ منافع فراہم کیا ہے۔ اس تقابلی جائزے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کون سا فنڈ آئندہ آنے والے برسوں میں بہترین کارکردگی کا حامل ہو سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، کیو کیو کیو (QQQ) جو کہ نیس ڈیک ون ہنڈریڈ انڈیکس پر مشتمل ہے، نے گزشتہ دس برسوں کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس فنڈ نے مقررہ مدت میں لگ بھگ پانچ سو تیرہ فیصد تک کا منافع دیا ہے جبکہ اس کی سالانہ شرح نمو اکیس فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔ اس شاندار کارکردگی کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کے بڑے نام اور جدید کمپنیاں ہیں جو اس انڈیکس کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب، ایس سی ایچ جی اور وی یو جی فنڈز نے بھی اپنی متعلقہ کیٹیگریز میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے لیکن وہ ہر پیمائش کے لحاظ سے کیو کیو کیو کے مقابلے میں کچھ پیچھے رہے۔ ایس سی ایچ جی نے اسی مدت کے دوران تقریباً چار سو انچاس فیصد اور وی یو جی نے چار سو دس فیصد تک کا منافع ریکارڈ کیا ہے۔ ان فنڈز کا انتخاب کرتے وقت سرمایہ کاروں کو صرف ماضی کی کارکردگی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ مستقبل کے معاشی حالات اور رسک فیکٹر کو بھی مدنظر رکھنا لازمی ہے۔ کیو کیو کیو میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہونے کی وجہ سے اس میں خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے، تاہم اس کا صلہ بھی بلند ترین منافع کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے برعکس، دیگر فنڈز میں خطرے کا تناسب قدرے متوازن ہو سکتا ہے جو قدامت پسند سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئندہ دہائی کے لیے سرمایہ کاری کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے ہر فرد کو اپنی مالیاتی حیثیت اور اہداف کے مطابق ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ کیو کیو کیو نے پچھلے دس سالوں میں تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، لیکن مستقبل کی پیشگوئی کے لیے معاشی رجحانات پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ ٹیک انڈسٹری کی ترقی، شرح سود میں تبدیلیاں اور عالمی معیشت کے حالات وہ اہم عوامل ہیں جو ان فنڈز کی آئندہ کارکردگی کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی فنڈ میں رقم لگانے سے پہلے مستند مالیاتی مشیروں سے رجوع کریں تاکہ پورٹ فولیو کو متنوع بنایا جا سکے اور ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔