LIVE
Loading Breaking News...

سائبر سکیورٹی کی 4 پرانی ٹپس جو اب کام نہیں کرتی ہیں

News Image
سائبر سکیورٹی کے بدلتے ہوئے مناظر میں پرانے طریقے اب غیر موثر ہو چکے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ان عام چار خرافات کا احاطہ کیا گیا ہے جو اب صارفین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
پبلک وائی فائی نیٹ ورکس، جیسے کہ ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں پائے جاتے ہیں، ہمیشہ سے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے، لیکن روزمرہ کی زندگی میں ان کا مکمل بائیکاٹ بھی غیر عملی بات ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین طویل عرصے سے صارفین کو مشورہ دیتے آئے ہیں کہ وہ عوامی نیٹ ورکس پر حساس معلومات تک رسائی سے گریز کریں اور روایتی طریقوں سے اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی کی دنیا اتنی تیزی سے تبدیل ہو چکی ہے کہ اب کئی پرانے اور فرسودہ سکیورٹی مشورے عملی طور پر غیر موثر ہو چکے ہیں۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف پیچیدہ اور عجیب و غریب پاس ورڈز کا استعمال ہی آن لائن ہیکنگ سے بچنے کا واحد اور بہترین طریقہ ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہیکرز کے پاس جدید ترین الگورتھم موجود ہیں جو منٹوں میں روایتی پاس ورڈز کو توڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ عام فہم غلطی بھی کی جاتی ہے کہ نامعلوم وائی فائی نیٹ ورکس پر صرف وی پی این (VPN) آن کر لینے سے مکمل تحفظ مل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وی پی این آپ کی ٹریفک کو انکرپٹ ضرور کرتا ہے، لیکن یہ خود سے کسی بھی ڈیوائس کو میلویئر یا فشنگ حملوں سے بچانے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ایک اور پرانا تصور یہ تھا کہ اگر آپ کی ویب سائٹ کے ایڈریس بار میں سبز تالا (HTTPS) نظر آ رہا ہے تو وہ سائیٹ سو فیصد محفوظ ہے۔ اب دھوکہ بازوں نے جعلی ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس بنانا شروع کر دی ہیں جو بظاہر محفوظ دکھائی دیتی ہیں لیکن پس پردہ صارفین کا ڈیٹا چرانے کا سبب بنتی ہیں۔ اسی طرح، اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے حوالے سے بھی پرانا نظریہ تبدیل ہو چکا ہے۔ صرف روایتی اینٹی وائرس انسٹال کر لینا آج کے دور میں ایڈوانسڈ سائبر حملوں کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جدید دور میں ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صارفین کو روایتی اور فرسودہ ٹپس سے ہٹ کر زیادہ فعال حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اس میں ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (MFA) کا استعمال، سافٹ ویئر کو بروقت اپ ڈیٹ رکھنا، اور فشرنگ حملوں کے بارے میں مسلسل آگاہی حاصل کرنا شامل ہے۔ پرانے طریقوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے جدید خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ڈیجیٹل رویے کو بدلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔