AI
چین اور امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عوامی رویوں میں بڑا فرق
ایک حالیہ سروے کے مطابق چین کے 83 فیصد عوام کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ میں صرف 39 فیصد افراد نے اس نظریے کی تائید کی ہے۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی (AI) کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں چین اور امریکہ کے عوام کے درمیان سوچ کا ایک بہت بڑا فرق سامنے آیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق چین کے مجموعی طور پر تراسی فیصد (83%) شہریوں کا یہ ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اس کے ممکنہ نقصانات یا خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ شرح دنیا کے کسی بھی بڑے ملک میں اے آئی کے تئیں سب سے زیادہ مثبت رجحان کو ظاہر کرتی ہے، جو چینی معاشرے میں ٹیکنالوجی کے تئیں گہرے اعتماد اور قبولیت کی غمازی کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سپر پاور امریکہ میں صورتحال یکسر مختلف ہے جہاں صرف انتالیس فیصد (39%) امریکی عوام اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہیں۔ امریکی عوام میں پائی جانے والی یہ ہچکچاہٹ اور محتاط رویہ نوکریوں کے ضیاع، رازداری کے تحفظ اور سکیورٹی خدشات سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوامی رویوں میں اس وسیع خلیج نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی قیادت کے مستقبل اور اس کی سمت کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق مستقبل میں بین الاقوامی تعاون، ٹیکنالوجی کی پالیسی سازی اور عالمی مارکیٹ میں برتری کے حصول کے طریق کار پر بھی براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جہاں چین اپنے شہریوں کی وسیع تائید کے ساتھ اے آئی ریسرچ اور اس کے نفاذ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، وہیں امریکی معاشرے اور پالیسی سازوں کو عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مزید محتاط حکمت عملین اپنانی پڑ سکتی ہے۔