World
یوکرین کا روس کے سمارا صنعتی مرکز پر حملہ اور کشیدگی
یوکرین نے روس کے جنوب مغربی سمارا خطے میں صنعتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ کارروائی کییف کی جانب سے روس کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں اضافے کا حصہ ہے۔
یوکرین نے روس کے جنوب مغربی سمارا خطے میں واقع اہم صنعتی انفراسٹرکچر پر ایک بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں خطے کے صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد خطرات کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کی۔ سمارا کے دارالحکومت کے سربراہ ایوان نووسకోవ် نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ حملہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ کییف حکومت نے روسی سرزمین کے اندر گہرائی تک طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی اپنی حکمت عملی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران یوکرین نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روسی توانائی اور صنعتی مراکز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ ماسکو کے جنگی اخراجات اور رسد کو متاثر کیا جا سکے۔ دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ فضائی اور ڈرون جنگ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جنگ کے میدان کے ساتھ ساتھ معاشی اور صنعتی تنصیبات بھی براہ راست زد میں آ رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد دونوں اطراف سے بیان بازی میں بھی تیزی آ گئی ہے اور خطے میں امن کی بحالی کے امکانات مزید تاریک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سمارا کے اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یہ تنازعہ اب طویل المدتی اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔