World
یونان میں کرنٹ لگنے سے آئرش نوجوان کی ہلاک، اہل خانہ کی قانونی کارروائی
یونان میں تعطیلات کے دوران شاور لیتے ہوئے بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے سترہ سالہ آئرش نوجوان الیکس میک کی کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حادثے کے بعد سیاحتی مقامات پر رہائش گاہوں کے بجلی کے آلات اور حفاظتی اقدامات کی سخت جانچ پڑتال کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
یونان میں چھٹیاں گزارنے کے دوران پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں سترہ سالہ آئرش نوجوان الیکس میک کی باتھ روم میں شاور لیتے ہوئے بجلی کا شدید کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ اس المناک حادثے کے بعد متوفی نوجوان کے اہل خانہ نے یونانی حکام اور متعلقہ سیاحتی اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سنجیدہ فیصلہ کیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، گھر میں موجود الیکٹرک واٹر ہیٹر یا دیگر تنصیب میں خرابی اس جان لیوا حادثے کی وجہ بنی۔
اس دلخراش سانحے کے بعد آئرلینڈ اور یونان دونوں ممالک میں سیاحتی رہائش گاہوں کے معیار اور وہاں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھٹیوں کے سیزن میں کرائے پر دی جانے والے مکانات اور اپارٹمنٹس میں اکثر برقی آلات کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی، جو سیاحوں کی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ الیکس میک کی کے خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے تمام مقامات پر برقی تنصیبات کے لیے سخت ترین حفاظتی ضابطے نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔
مقامی پولیس اور فرانزک ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا اس حادثے میں کسی قسم کی مجرمانہ غفلت یا لاپرواہی شامل تھی۔ یونان کے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور تمام ہاؤسنگ مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے تمام برقی آلات کی مرمت اور جانچ پڑتال کروائیں۔ اہل خانہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی آپشنز بروئے کار لائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ذمہ داران کو ان کے کیے کی سزا ملے۔