Technology
وال اسٹریٹ بلاک چین اور ایتھریلائز کے سی ای او کا انتباہ
ایتھریلائز کے چیف ایگزیکٹو نے خبردار کیا ہے کہ وال اسٹریٹ کی جانب سے پرائیویٹ بلاک چینز کو اپنانے کی دوڑ دراصل ناکامی اور عدم افادیت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کے مقابلے میں ایتھریم جیسے پبلک بلاک چین نیٹ ورکس مالیاتی شعبے کے لیے زیادہ شفاف اور قابلِ توسیع حل فراہم کرتے ہیں۔
فنانشل ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس وقت ایک اہم بحث چھڑ گئی ہے جہاں ماہرین روایتی مالیاتی اداروں کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایتھریلائز (Etherealize) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وال اسٹریٹ کی جانب سے پرائیویٹ بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی یا پرائیویٹ بلاک چینز کا استعمال دراصل مالیاتی نظام کی پرانی اور فرسودہ نااہلیوں کو ہی طویل عرصے تک برقرار رکھنے کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے، جس سے طویل المدتی بنیادوں پر کوئی بڑا معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب، پبلک بلاک چین نیٹ ورکس جیسے کہ ایتھریم (Ethereum) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید نیٹ ورکس مالیاتی منڈیوں کے لیے زیادہ شفاف، محفوظ اور قابلِ توسیع حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پرائیویٹ سسٹمز کے برعکس، پبلک چینز تمام شراکت داروں کے لیے یکساں مواقع اور کھلے پن کو یقینی بناتے ہیں، جو جدید گلوبل فنانس کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
وال اسٹریٹ کے ادارے طویل عرصے سے اپنے اندرونی نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرائیویٹ بلاک چینز پر تجربات کر رہے ہیں، تاہم صنعت کے کئی ماہرین اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ الگ تھلگ نیٹ ورکس بنانے سے بلاک چین کا اصل فلسفہ اور اس کی افادیت مجروح ہوتی ہے۔ پبلک بلاک چینز کی لچک اور بین الاقوامی سطح پر ان کی قبولیت مالیاتی لین دین کو زیادہ تیز اور کم خرچ بناتی ہے، جو کہ پرائیویٹ سسٹمز میں ممکن نہیں ہوتا۔
اس تناظر میں، مستقبل کا مالیاتی ڈھانچہ کس سمت جائے گا، اس پر اب سنجیدہ سوچ بچار کی جا رہی ہے۔ اگر وال اسٹریٹ کے ادارے پبلک بلاک چینز کی طرف منتقلی میں تاخیر کرتے ہیں، تو وہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ایتھریلائز کے سی ای او کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مالیاتی دنیا کو ڈیجیٹل دور کے حقیقی اور کھلے تقاضوں کو اپنانا ہوگا تاکہ سیکورٹی اور شفافیت دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔