LIVE
Loading Breaking News...

وال اسٹریٹ بلاک چین اور ایتھریم ماہر رامن کا انتباہ

News Image
وال اسٹریٹ کی جانب سے نجی بلاک چین نیٹ ورکس کے بے تحاشا استعمال کو ماہرین نے تنزلی کی دوڑ قرار دیا ہے۔ ایتھریم کے حامی رامن کے مطابق مالیاتی نظام کو حقیقی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک شفاف اور کھلے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
وال اسٹریٹ کی جانب سے نجی اور بند بلاک چین نیٹ ورکس کو اپنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مالیاتی اور تکنیکی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایتھریم کے سرکردہ حامی اور ماہرِ ٹیکنالوجی رامن نے خبردار کیا ہے کہ وال اسٹریٹ کا یہ نجی بلاک چین جنون دراصل ایک ایسی تنزلی کی دوڑ ہے جو طویل مدت میں اس ٹیکنالوجی کے حقیقی اور بنیادی فوائد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ٹیکنالوجی کا اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ مرکزی طور پر کنٹرول شدہ اور مخصوص اجازت نامے والے نیٹ ورکس (Permission-only networks) بلاشبہ جدید مالیاتی نظام میں ایک مخصوص کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم ان اکیلے نیٹ ورکس پر بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ رامن کے مطابق، جب تک ان بند سسٹمز کو کسی شفاف، غیر مرکزی اور کھلی بنیادی سطح (open base) سے منسلک نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک بلاک چین ٹیکنالوجی کے وہ فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے جن کے لیے یہ جانی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں روایتی مالیاتی ادارے اور بڑے بینک بلاک چین کے استعمال میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں، لیکن وہ سکیورٹی اور کنٹرول کے نام پر اسے نجی دائرے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اس رجحان نے ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کمیونٹی میں ایک نئی بحث چھڑا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وال اسٹریٹ نے اپنی اس حکمت عملی میں تبدیلی نہ کی تو وہ بلاک چین کی اصل طاقت یعنی شفافیت اور اشتراک سے محروم رہ جائیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا روایتی مالیاتی ادارے کھلے اور شفاف نیٹ ورکس کی طرف قدم بڑھاتے ہیں یا اپنے نجی سسٹمز پر ہی انحصار جاری رکھتے ہیں۔ تاہم، رامن جیسے ماہرین کی جانب سے دی گئی یہ تنبیہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل کے لیے کھلے پن اور شفافیت کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔