World
عباس عراقچی: آبنائے ہرمز اور عمان مذاکرات الگ الگ موضوعات ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ بات چیت اور آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دونوں معاملات اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل الگ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا دو بالکل الگ الگ اور متفرق مسائل ہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور بین الاقوامی سطح پر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے تجارتی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے بیرونی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز کی نگرانی کے بلوں پر بحث و مباحثہ جاری ہے، جو اس مسئلے کی حساسیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ دوسری طرف، ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے روکنے کے لیے عام اصولوں پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ تہران نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ وہ موجودہ ناکہ بندی کے تناظر میں اپنی شکست کو تسلیم کرے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے، جو خطے میں بحری سلامتی اور عسکری حکمت عملی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کی بندش یا کنٹرول کے معاملے پر عالمی طاقتیں انتہائی باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے امور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عمان کے ساتھ سفارتی روابط اپنی جگہ جاری رہیں گے لیکن اس کا تعلق آبنائے ہرمز کے زمینی و بحری حقائق سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ خطے کی مجموعی صورتحال بدستور کشیدہ چلی آ رہی ہے جہاں لبنان پر اسرائیلی بمباری اور دیگر محاذوں پر جاری تنازعے نے مشرق وسطیٰ کے امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اس تمام صورتحال میں ایران کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور بحری تجارت کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اور تمام ممالک کی نگاہیں تہران کے آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔