LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ووٹرز کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر مخالفت

News Image
امریکہ میں ہونے والے ایک تازہ ترین قومی سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ووٹرز نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد چاہتی ہے کہ اس شعبے میں جلد بازی کے بجائے مقامی مسائل اور اثرات کو ترجیح دی جائے۔
واشنگٹن: امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں مصروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس وقت عوامی سطح پر بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے جب ایک تازہ ترین قومی سروے میں ووٹرز نے ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار تعمیر کے خلاف رائے دی ہے۔ فاکس نیوز کے اس ملک گیر سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عام شہری ٹیکنالوجی کی اندھا دھند ترقی کی بجائے مقامی ماحول، بجلی کی کھپت اور دیگر زمینی حقائق کو حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے ملک بھر میں جنریٹو اے آئی اور دیگر جدید سسٹمز کو سپورٹ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کر رہے ہیں۔ تاہم، مقامی کمیونٹیز میں اس حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ ان مراکز کی وجہ سے بجلی اور پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سروے میں شامل اکثر ووٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت اور کارپوریشنز کو عوامی مفاد اور مقامی آبادی کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ صرف اپنی کاروباری دوڑ کو جاری رکھنا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عوامی سطح پر اس قسم کی مزاحمت آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی رفتار کو سست کر سکتی ہے۔ پالیسی سازوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے مزید سخت قواعد و ضوابط مرتب کریں تاکہ مقامی ماحول اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ صورتحال ٹینک کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔