Business
وال اسٹریٹ مارکیٹ کا احوال، ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 میں گراوٹ
وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکسز کمزور امریکی خوردہ فروخت کے اعداد و شمار اور عالمی تناؤ کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہو کر بند ہوئے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ اب آئندہ ہفتے آنے والے فیڈرل ریزرو کے منٹس پر مرکوز ہے۔
امریکی شیئر مارکیٹ وال اسٹریٹ میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اور ایس اینڈ پی 500 سمیت اہم انڈیکسز کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، کمزور امریکی خوردہ فروخت کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے انتہائی احتیاط سے کام لیا جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے کیونکہ معاشی سست روی کے خدشات ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ایران کے گرد منڈلاتے ہوئے کشیدہ سیاسی تناؤ نے بھی عالمی منڈیوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹیں عالمی معیشت کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ ان تمام جیو پولیٹیکل عوامل نے مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں محدود اور محتاط رہیں۔
سرمایہ کاروں کی اگلی بڑی توجہ اب امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کے آئندہ ہفتے جاری ہونے والے منٹس پر مرکوز ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء کو امید ہے کہ ان منٹس سے شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے اہم اشارے ملیں گے، جو آنے والے دنوں میں معاشی پالیسیوں اور مارکیٹ کے رخ کا تعین کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے میں بھی احتیاطی تدابیر کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جب تک کہ مرکزی بینک کی جانب سے کوئی واضح معاشی سمت سامنے نہیں آتی۔