LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور فوسل فیول: کاربن کے اخراج میں اضافے کا خدشہ

News Image
نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال فوسل فیول کمپنیوں کو تیل اور گیس کے اخراج میں مزید اضافے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی کھپت کے ساتھ ساتھ یہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی بحران کو بھی گہرا کر رہی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال فوسل فیول کمپنیوں کو تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان سے اخراج میں مزید اضافہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے بجلی کی بھاری کھپت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی اثرات پر پہلے ہی کافی بحث ہو رہی ہے، لیکن اب ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ خود اے آئی ٹیکنالوجی کو صنعتوں کے اندر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق تیل اور گیس کی بڑی کمپنیاں ایسے جدید الگورتھم اور ڈیٹا پروسیسنگ سسٹمز کو اپنا رہی ہیں جو جیولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور کھدائی کے عمل کو مزید تیز اور منافع بخش بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف روایتی ایندھن کے ذرائع پر انحصار برقرار رہتا ہے بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے، جو کہ عالمی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے بین الاقوامی اہداف کے بالکل برعکس ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کا سامنا ہے، مصنوعی ذہانت کو صاف توانائی کے فروغ کے بجائے فوسل فیول کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیک انڈسٹری اور توانائی کے شعبے کے درمیان تعلقات پر کڑی نظر رکھی جائے اور ایسے ضابطے بنائے جائیں جو موسمیاتی اہداف کو نقصان پہنچائے بغیر ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنائیں۔