Business
خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان، ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود بیشتر خلیجی حصص بازاروں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔ تیل کی ترسیل میں تعطل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی اور سفارتی ڈیڈ لاک کے باوجود خلیجی ممالک کی بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے پر ٹریفک سست ہونے کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا اور خلیجی بورسز میں تیزی دیکھی گئی۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جغرافیائی سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی دھمکیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور بحری ٹریفک مزید سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ میں ہونے والی رکاوٹوں کے براہ راست اثرات عالمی توانائی کی سپلائی پر پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپلائی کے خدشات اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کے نرخوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر بھی خاطر خواہ اضافے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، خطے کے مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ خلیجی منڈیوں کی یہ رومادگی اس بات کی غماز ہے کہ مقامی سرمایہ کار عالمی سطح پر پیدا ہونے والی توانائی کی بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں، تاہم خلیجی معیشتوں نے فی الحال اس بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں مکمل طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیشرفت اور توانائی کی منڈیوں پر مرکوز ہوں گی۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، تو اس کے عالمی معیشت اور خلیجی مارکیٹس پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام تر خدشات کے باوجود مارکیٹ کا حالیہ رجحان سرمایہ کاروں کے مضبوط اعصاب اور معاشی استحکام کا مظہر ہے۔