World
اٹلی کے میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کی قیمتی پینٹنگز چوری
اٹلی کے ایک مقامی میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے دور کی چار قیمتی پینٹنگز راتوں رات چوری ہو گئیں۔ اس واردات کے دوران الارم کا نہ بجنا اسے ایک پیشہ ورانہ اور سوچی سمجھی کارروائی ظاہر کرتا ہے۔
اطالوی حکام کے مطابق ملک کے ایک مؤقر میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے دور کی چار نہایت قیمتی اور نایاب پینٹنگز چوری ہو گئی ہیں۔ یہ چوری رات کی تاریکی میں عمل میں لائی گئی، جس نے سکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واردات کے دوران میوزیم کا حفاظتی الارم نظام متحرک نہیں ہوا، جس سے تفتیش کاروں کا یہ شبہ مزید گہرا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی عام چوری نہیں بلکہ کسی انتہائی پیشہ ور اور تربیت یافتہ گروہ کا کام ہے۔ چوری ہونے والے فن پاروں کو تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور میوزیم کے اندر اور باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چور اس مہارت سے کارروائی انجام دے کر فرار ہوئے کہ انہیں سکیورٹی گارڈز یا عملے میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد دنیا بھر کے آرٹ شائقین اور میوزیم انتظامیہ میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قیمتی ورثے کی چوری نہ صرف اٹلی بلکہ پوری عالمی آرٹ کمیونٹی کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ وہ جلد ہی ان چوری شدہ فن پاروں کا سراغ لگا کر مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے اور فن پاروں کو بحفاظت اصل مقام پر واپس لایا جائے گا۔