World
مغربی کنارہ: قصرہ میں اسرائیلی آباد کاروں کا محاصرہ اور فوجی زون کا نفاذ
مغربی کنارے کے قصبے قصرہ میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے محاصرے کے دوران فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے کر رسد کی فراہمی منقطع کر دی گئی۔ اس کشیدہ صورتحال کے بعد اسرائیلی حکام نے اس علاقے کو باضابطہ طور پر ایک فوجی زون قرار دے دیا۔
مغربی کنارے کے علاقے قصرہ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر اس وقت دیکھنے میں آئی جب اسرائیلی آباد کاروں نے قصبے کا مسلسل ایک ہفتے تک محاصرہ جاری رکھا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران آباد کاروں نے فلسطینیوں کے رہائشی گھروں کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور روزمرہ کی ضروری اشیاء، خوراک اور دیگر بنیادی رسد کی فراہمی کو مکمل طور پر منقطع کر دیا۔ اس محاصرے کی وجہ سے مقامی فلسطینی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انسانی بحران کے خدشات بڑھ گئے۔
اس ایک ہفتے کے طویل محاصرے اور بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں اسرائیلی فوجی حکام نے مداخلت کرتے ہوئے اس پورے خطے کو ایک بند فوجی زون قرار دے دیا۔ اس اعلان کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے نام پر پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے بلکہ امدادی سرگرمیوں اور میڈیا کی رسائی بھی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آباد کاروں کی جانب سے مسلط کردہ یہ محاصرہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ رہائشیوں کو پانی، بجلی اور خوراک کی بندش جیسے کٹھن حالات کا سامنا ہے جبکہ فوجی زون کے نفاذ کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں مستقل امن کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔