LIVE
Loading Breaking News...

اوڈیسی کے مترجم کی کرسٹوفر نولان پر سخت تنقید

News Image
ہومر کی مشہور نظم اوڈیسی کا انگریزی میں ترجمہ کرنے والے معروف مترجم نے کرسٹوفر نولان کی فلم پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسی فلم بنانے پر انہیں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔
ادبی دنیا میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب ہومر کی شہرہ آفاق کلاسیکی نظم 'اوڈیسی' کا جدید انگریزی میں منظوم ترجمہ کرنے والے معروف مترجم نے نامور ہالی ووڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولان کے کام پر شدید غصے اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔ مترجم کے مطابق، اگر وہ اس نوعیت کا کام کرتے تو انہیں عوامی سطح پر شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہدایت کار نے ایک انٹرویو کے دوران اس ترجمے کی پہلی سطر کا حوالہ دیا تھا، جس پر مترجم نے اب ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کرسٹوفر نولان کا شمار دنیا کے سرفہرست اور انتہائی باصلاحیت فلم سازوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے سنیما کی تاریخ کو کئی شاہکار فلمیں دی ہیں۔ تاہم، کلاسیکی ادب کو جدید سینمائی قالب میں ڈھالنے یا اس کے حوالے سے بات کرنے پر ادبی حلقوں میں اکثر بحث چھڑ جاتی ہے۔ مترجم کا کہنا ہے کہ ادبی شہ پاروں کے ساتھ تخلیقی آزادی کے نام پر کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے، اور فنکاروں کو اصل متن کے ساتھ مکمل انصاف کرنا چاہیے۔ اس بیان کے بعد فلمی اور ادبی شائقین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف نولان کے مداح ان کے منفرد اندازِ فکرم اور فنکارانہ آزادی کا دفاع کر رہے ہیں، وہیں روایتی ادب کے پرستار مترجم کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ کلاسیکی ادب کے ترجمے اور اس کی سینمائی تشریح کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ اصل مصنف اور مترجم کی محنت ضائع نہ ہو۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید طول پکڑنے کا امکان ہے، کیونکہ ادبی تنظیمیں اور فلمی تجزیہ کار اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس طویل بحث کو تازہ کرتا ہے کہ آیا جدید میڈیا کو کلاسیکی ادب میں ردوبدل کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ شائقین اور محققین دونوں ہی اس تنازع کے ممکنہ اثرات کا انتظار کر رہے ہیں جو مستقبل میں ادبی اور فلمی تعاون پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔