World
قطر میں ایرانی پائلٹس کی قید کا معاملہ، تہران کا مطالبہ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک جرات مندانہ بمباری کے دوران لاپتہ ہونے والے اس کے پائلٹس قطر کی قید میں موجود ہیں۔ قطر اور کویت نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ تہران نے معاملے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ فضائی کارروائیوں اور بمباری کے دوران لاپتہ ہونے والے ایرانی پائلٹ اس وقت قطر کی حراست میں موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے قطری حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پائلٹس کو فوری طور پر رہا کرے اور اس معاملے پر حقیقت جاننے کے لیے تہران کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو قطر جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک کے درمیان فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
دوسری جانب قطر اور کویت نے ایرانی دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے کسی بھی ایرانی پائلٹ کی موجودگی یا گرفتاری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، اور تہران کی جانب سے لگائے جانے والے یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے متضاد بیانات سے خلیجی خطے کی پہلے سے نازک سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، بالخصوص جب جنگی حالات میں فوجی اہلکاروں کی گمشدگی اور ان کی حراست کے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران اور قطر کے درمیان اس سفارتی محاذ آرائی نے عالمی طاقتوں کی بھی توجہ مبذول کروا دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ ان کے پاس پائلٹس کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں اور دوحہ کو اس معاملے میں شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری طرف قطری موقف یہ ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے حامی ہیں اور اس طرح کے من گھڑت دعوے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے مزید شدت اختیار کرنے کا اندیشہ ہے کیونکہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی علاقائی چپقلش سے بچا جا سکے۔ تہران کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے اصرار اور دوحہ کی انکار کی پالیسی کے درمیان یہ تنازعہ فی الحال حل طلب ہی نظر آتا ہے۔