Health
خوراک کا کیمیکل اور خودکشی کے واقعات: طبی ماہرین کی تشویش
برطانیہ میں محققین نے انکشاف کیا ہے کہ کھانوں میں استعمال ہونے والا ایک عام کیمیائی حفظی مادہ نوجوانوں اور مردوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔ ماہرین نے اس خطرناک رجحان کے پیش نظر اس کی رسائی پر فوری پابندیاں عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ خوراک میں استعمال ہونے والا ایک عام کیمیائی حفظی مادہ نوجوانوں اور خاص طور پر مردوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی وسعت کا اندازہ عام سطح پر کم لگایا جا رہا ہے جبکہ زمینی حقائق انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس کیمیکل کی مارکیٹ میں آسان دستیابی اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اس کی فراہمی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے بعد صحت عامہ کے اداروں اور ماہرین نے اس کے استعمال اور فروخت پر فوری سخت ضابطے اور پابندیاں عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا یہ سلسلہ مزید پھیل سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ افراد میں زیادہ تر تعداد نوجوان طبقے اور کم عمر مردوں کی ہے جو ذہنی دباؤ کے شکار ہوتے ہیں اور اس کیمیکل تک ان کی آسان رسائی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ طبی ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس کیمیکل کی خرید و فروخت کے قوانین کا از سر نو جائزہ لیں تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، آن لائن مارکیٹ پلیسز پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جہاں اس طرح کے نقصان دہ مادے بغیر کسی روک ٹوک کے باآسانی دستیاب ہو جاتے ہیں اور کم عمر افراد اس کا شکار بن جاتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، ذہنی صحت کے فلاحی اداروں اور ماہرین نفسیات نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس کیمیکل کی فراہمی کو محدود کیا جانا چاہیے بلکہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بیداری مہمات بھی چلائی جانی چاہئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ انحراف کو روکا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد حفاظتی اقدامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔