Business
ریبل کریمی آئس کریم کا دیوالیہ پن، 23.8 ملین ڈالر کا مقدمہ
آئس کریم بنانے والی معروف کمپنی ریبل کریمی نے اپنے حریف کے ساتھ پیکیجنگ اور ٹریڈ مارک کے تنازع میں 23.8 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد ہونے کے بعد دیوالیہ پن کے تحفظ کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ برانڈ وال مارٹ، کروگر اور ٹارگٹ جیسے بڑے امریکی سپر مارکیٹس میں فروخت کیا جاتا ہے۔
امریکی مارکیٹ میں مقبول آئس کریم برانڈ ریبل کریمی نے قانونی جنگ میں شکست اور بھاری مالی جرمانے کے بوجھ کے باعث دیوالیہ پن کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ کمپنی کو اپنے ایک حریف برانڈ وین لیووین (Van Leeuwen) کے ساتھ پیکیجنگ اور ٹریڈ مارک کے مقدمے میں عدالت کی طرف سے 23.8 ملین ڈالر کا بڑا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد کمپنی شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی۔
ریبل کریمی کے نام سے تیار کی جانے والی یہ آئس کریم امریکہ بھر میں وال مارٹ (Walmart)، کروگر (Kroger) اور ٹارگٹ (Target) جیسے بڑے ریٹیل اسٹورز اور ملک بھر کے گروسری اسٹورز پر فروخت کی جاتی ہے۔ اس برانڈ نے اپنی کم کیلوریز اور منفرد پیکیجنگ کی وجہ سے صارفین میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی تھی، تاہم قانونی لڑائی کے اخراجات اور عدالت کی جانب سے عائد کردہ بھاری ہرجانے نے کمپنی کی مالی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی اس وقت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر بھی غور کر رہی ہے اور ساتھ ہی دیوالیہ پن کے قوانین کے تحت اپنے اثاثوں اور مالی معاملات کو منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ قانونی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حریف برانڈ کی جانب سے پیکیجنگ کی مشابہت اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے، جن کے ثبوت پر عدالت نے مدعی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کروڑوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔
اس پیش رفت کے بعد کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ریبل کریمی جیسی بڑی اور وسیع پیمانے پر فروخت ہونے والی کنزیومر گڈز کمپنی کا اس طرح دیوالیہ پن کے تحفظ کے لیے جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ برانڈز کے درمیان قانونی تنازعات کتنے مہنگا ثابت ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس کٹھن دور سے نکلنے کے لیے تمام ممکنہ قانونی اور مالی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سپلائی چین اور کاروبار کو جاری رکھا جا سکے۔