LIVE
Loading Breaking News...

جیسن آرڈے اسکینڈل: عوامی تحقیقات کا مطالبہ اور لارڈ سائمن ولی کا بیان

News Image
لارڈ سائمن ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ جیسن آرڈے کو میڈیا کی طرف سے مسلسل نشانہ بنایا گیا اور ان کا تعاقب کیا گیا۔ اس معاملے پر اب ایک شفاف عوامی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
برطانوی تعلیمی اور سماجی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب جیسن آرڈے کے خلاف مبینہ طور پر چلائے جانے والے 'وچ ہنٹ' یا انتقامی مہم کی آزادانہ عوامی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا۔ اس حوالے سے معروف شخصیات نے کھل کر آواز اٹھائی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ معاملے کی حقیقت کو منظر عام پر لانے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ برطانوی معاشرے میں اس معاملے نے کافی اہمیت اختیار کر لی ہے کیونکہ تعلیمی اداروں سے جڑے افراد پر اس قسم کے دباؤ کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ لارڈ سائمن ولی نے اس معاملے پر کھل کر بات کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ جیسن آرڈے کو میڈیا کی طرف سے بری طرح ہراساں کیا گیا اور ان کا بلاجواز تعاقب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے اس پورے معاملے کو میڈیا میں اچھالا گیا اور دباؤ بڑھایا گیا، وہ کسی بھی طرح سے منصفانہ رویے کے زمرے میں نہیں آتا۔ لارڈ سائمن ولی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف متعلقہ فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر شفافیت کے عمل کو بھی متنازع بناتے ہیں۔ اب اس پورے قضیے کے بعد سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس مبینہ وچ ہنٹ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک باضابطہ پبلک انکوائری بٹھائی جائے۔ اس تحقیقات کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ آیا میڈیا ٹرائل اور دباؤ کے پیچھے کوئی منظم سازش تھی یا پھر یہ محض خبروں کی حد تک محدود معاملہ تھا۔ آنے والے دنوں میں اس مطالبے کے مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس سے جڑے کئی اہم پہلو تاحال تشنہ طلب ہیں۔