Business
امریکی صنعتی ترقی میں نمایاں اضافہ، ڈیٹا سینٹر کی طلب اہم محرک
سٹی گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی طلب میں اضافے کی وجہ سے امریکا میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو کر 6.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس شعبے میں نامیاتی ترقی نے توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے سٹی گروپ (Citi) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کے صنعتی شعبے میں ترقی کی رفتار میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ادارے کے مطابق، رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران صنعتی شعبے کی نامیاتی ترقی 6.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس نے مارکیٹ کے تمام اندازوں اور توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی کے پیچھے بنیادی محرک ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے، جو جدید ڈیجیٹل دور کی ضرورت بن چکے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی وسعت کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ان کے لیے درکار سازوسامان کی مانگ میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس مثبت رفتار نے صنعتی کمپنیوں کے لیے منافع کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی اس شعبے پر مزید بحال ہوا ہے۔ ماضی میں سپلائی چین کے مسائل اور مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے صنعتی شعبہ سست روی کا شکار تھا، تاہم اب طلب میں اس قدر اضافے نے تمام چیلنجز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ خاص طور پر پاور جنریشن، کولنگ سسٹمز اور الیکٹریکل آلات بنانے والی کمپنیوں کو اس ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ یہ تمام اشیاء ڈیٹا سینٹرز کے لیے ازبس ضروری ہیں۔
اس پیشرفت کے بعد وال اسٹریٹ اور دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی صنعتی اسٹوکس کے حوالے سے مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا سینٹر کی یہ طلب اسی رفتار سے جاری رہی تو امریکی معیشت کو ایک مستحکم سہارا ملے گا اور صنعتی شعبہ آئندہ سہ ماہیوں میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ سٹی گروپ نے تمام متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے معاشی حالات اور ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق اپنی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھائیں تاکہ اس مارکیٹ کے مواقع سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔