LIVE
Loading Breaking News...

اے او سی کا انڈے فریز کرانے کے لیے بچت کا اعلان

News Image
امریکی نمائندہ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ وہ مستقبل میں زچگی کے حصول کے لیے اپنے انڈے فریز کرانے کی تیاری کر رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے پیسے بچا رہی ہیں۔ انہوں نے اس طبی عمل کے اخراجات اور خواتین کو درپیش چیلنجز پر بھی کھل کر بات کی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (اے او سی) نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ذاتی نوعیت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مستقبل میں بچوں کی پیداوار کے امکان کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے انڈے فریز کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اس طبی عمل کے اخراجات اٹھانے کے لیے باقاعدہ بچت کر رہی ہیں۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر خواتین کی صحت، تولیدی حقوق اور اس مہنگے طبی عمل کے حوالے سے عوامی بحث کو گرما دیا ہے۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اپنے چاہنے والوں اور فالوورز کے ساتھ اس عمل کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام خواتین کے لیے اس قسم کے طبی طریقہ کار انتہائی مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ انڈے فریز کرنے کا عمل نہ صرف ابتدائی طور پر بھاری اخراجات کا متقاضی ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ اور سالانہ فیس کی مد میں بھی ہزاروں ڈالرز درکار ہوتے ہیں، جو کہ ہر عام خاتون کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق، حالیہ برسوں میں کیریئر اور دیگر ذاتی وجوہات کی بنا پر شادی یا اولاد کی پیداوار میں تاخیر کرنے والی خواتین میں انڈے فریز کرانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اس عمل کی زیادہ قیمت ایک بڑا رکاوٹ ہے کیونکہ زیادہ تر امریکی ہیلتھ انشورنس کمپنیاں اس کے اخراجات برداشت نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے یہ سہولت صرف باصلاحیت یا مالی طور پر مستحکم خواتین تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اے او سی کے اس بیان کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں انتہائی سراہا جا رہا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک معروف سیاسی شخصیت کی جانب سے اس موضوع پر کھل کر بات کرنے سے اس کے گرد موجود معاشرتی دباؤ اور جھجھک کم ہوگی۔ عوام اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اب اس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ انشورنس پالیسیوں میں تولیدی صحت کے ان اقدامات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر خاتون اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔