Business
وال اسٹریٹ کی تاریخی مندی اور بٹ کوائن پر اثرات
وال اسٹریٹ پر ایس اینڈ پی 500 کا شلر کیپ تناسب 40 سے 42 کے لگ بھگ پہنچ گیا ہے جو تاریخ میں اس سے پہلے صرف 1929 اور 2000 میں دیکھا گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مالیاتی صورتحال کا بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ پر مالیاتی اشاریے ایک بار پھر خطرناک حد تک بلند ہو چکے ہیں جو ماضی کے بڑے اقتصادی بحرانوں کی یاد دلاتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایس اینڈ پی 500 کا شلر کیپ تناسب 40 سے 42 کے درمیان گھوم رہا ہے جو کہ 1929 اور 2000 کے تاریخی اور سست رفتار دور کے بعد اب سب سے اونچی سطح ہے۔ اس بلند تناسب کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کے اسٹاکس اپنی اصل بنیادی قدر سے کہیں زیادہ مہنگے ہو چکے ہیں اور سرمایہ کاروں میں خط مول لینے کا رجحان عروج پر ہے۔
اس صورتحال نے روایتی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ کرپتو کرنسی مارکیٹ خصوصاً بٹ کوائن کے حامیوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماضی میں جب بھی وال اسٹریٹ پر اس قسم کی اور اس درجے کی مالیاتی گراوٹ یا حد سے زیادہ تیزی دیکھی گئی ہے تو اس کے بعد عالمی معیشت میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی مارکیٹوں میں زیادہ قیمتیں ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار اب متبادل اثاثوں کی تلاش میں ہیں تاکہ اپنے سرمائے کو محفوظ بنا سکیں۔
بٹ کوائن کے لیے اس صورتحال کے دو مختلف پہلو ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف جہاں کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روایتی مارکیٹوں میں کسی بھی قسم کے بڑے بحران کی صورت میں بٹ کوائن بھی وقتی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت میں کمی آ سکتی ہے، وہیں دوسری طرف طویل مدتی سرمایہ کار اسے ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی مالیاتی نظام پر اعتماد کم ہونے سے ڈیجیٹل کرنسیز کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
موجودہ اقتصادی منظر نامے میں ریڈیٹ (RDDT) جیسے نئے اور مقبول اسٹاکس کی کارکردگی نے بھی مارکیٹ کی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر جب ایس اینڈ پی 500 میں شمولیت کی خبروں نے ان کے شیئرز کو اوپر دھکیلا ہے۔ تاہم، مجموعی مارکیٹ کا یہ بلند ترین شلر کیپ تناسب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا وال اسٹریٹ کا یہ تاریخی رجحان کرپتو مارکیٹ کو مزید بلندیوں پر لے جاتا ہے یا کسی نئے مالیاتی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔