Business
انڈونیشیا فنانشل اینڈ انویسٹمنٹ سینٹر: نیا معاشی مرکز قائم کرنے کا اعلان
انڈونیشیا کی حکومت نے ملک میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لیے 'انڈونیشیا فنانشل اینڈ انویسٹمنٹ سینٹر' کے قیام کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس نئے مرکز کا مقصد ملکی معیشت کو استحکام دینا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کی حکومت نے ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے بڑھتی ہوئی کشش کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایک نئے اور جامع منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 'انڈونیشیا فنانشل اینڈ انویسٹمنٹ سینٹر' (IIFC) کے قیام کے حوالے سے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جس کا بنیادی مقصد ملک کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ترین مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
حالیہ برسوں میں انڈونیشیا نے اپنی معاشی پالیسیوں میں کئی اہم اصلاحات کی ہیں جن کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد اس خطے پر مزید پختہ ہوا ہے۔ یہ نیا مالیاتی مرکز ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت کے نیچے جدید ترین سہولیات، شفاف ریگولیٹری فریم ورک اور کاروباری آسانی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا میں معاشی سپر پاور بننے کی دوڑ میں مزید آگے نکل جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ ضابطہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مالیاتی منڈیوں میں استحکام اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے اصول و ضوابط لاگو کیے جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس مرکز کے فعال ہونے کے بعد ملک میں ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور سبز توانائی کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔
انڈونیشیا کے معاشی ماہرین نے حکومت کے اس قدم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا اور زر مبادلہ کے ذخائر مزید مستحکم ہوں گے۔ یہ منصوبہ ملک کے طویل مدتی اقتصادی ترقی کے وژن کا ایک اہم حصہ ہے، جو آنے والے برسوں میں انڈونیشیا کے مالیاتی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔