World
بھارت میں میڈیا کی آزادی اور مودی حکومت کا کردار
بھارت میں میڈیا کے محدود ہوتے ہوئے منظرنامے نے عالمی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ مختلف عالمی انڈیکسز اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں آزادی صحافت کو کس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
بھارت میں میڈیا کا موجودہ منظرنامہ شدید دباؤ اور پابندیوں کا شکار نظر آتا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں جاری ہونے والے مختلف میڈیا فریڈم انڈیکسز اور رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں ملک کے اندر آزادانہ صحافت کے لیے فضا دن بدن تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور دباؤ کے باعث صحافیوں کے لیے اپنے فرائض غیر جانبدارانہ طریقے سے انجام دینا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جس سے جمہوری روایات پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، بھارت کا شمار ان ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں میڈیا کی آزادی کا گراف مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی کا اندازہ لگانے والے پلیٹ فارمز نے خبردار کیا ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے اور میڈیا اداروں کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملکی صحافتی برادری کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے، کیونکہ ایک مضبوط جمہوریت کے لیے آزاد میڈیا کا ہونا بنیادی شرط مانی جاتی ہے۔
دوسری جانب، اس تمام صورتحال پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ نیشنل ہیرالڈ اور ایکسپریس ٹریبیون جیسی معتبر مطبوعات اور خبر رساں اداروں نے بھی اپنے تجزیوں میں اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح بھارتی میڈیا کو حکومتی دباؤ کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر میڈیا کے اداروں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو اس سے معاشرے میں سچی اور شفاف معلومات کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ عوامی سطح پر بھی اب اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں آزادی اظہار رائے کا مستقبل کیا ہوگا۔