LIVE
Loading Breaking News...

یاسوکونی مزار جاپان: تاریخ اور تنازعات کا مکمل پس منظر

News Image
یاسوکونی مزار میں جاپان کے لیے لڑنے والے جنگی مجرموں سمیت تقریباً ڈھائی ملین افراد کی یادگاریں موجود ہیں۔ یہ متنازعہ مقام اکثر ایشیائی ممالک کے ساتھ جاپان کے سفارتی کشیدگی کا مرکز بنا رہتا ہے۔
ٹوکیو کا یاسوکونی مزار دنیا بھر میں ایک انتہائی متنازعہ اور حساس مقام کے طور پر جانا جاتا ہے، جو جاپان کی جنگی تاریخ اور ماضی کے مظالم سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس مزار کی تاریخ اور اس میں موجود شخصیات کی فہرست نے کئی ایشیائی ممالک بالخصوص چین اور کوریا کے ساتھ جاپان کے تعلقات کو ہمیشہ کشیدہ رکھا ہے۔ یہاں کی جانے والی عبادات اور حکومتی شخصیات کے دورے اکثر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، یاسوکونی مزار میں تقریباً 2.5 ملین یعنی پچیس لاکھ افراد کے نام اور ان کی یادگاریں درج ہیں۔ اس طویل فہرست میں وہ تمام فوجی اور عام شہری شامل ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں کے دوران جاپان کی خاطر اپنی جانیں گنوائیں۔ تاہم، سب سے زیادہ متنازعہ پہلو یہ ہے کہ اس مزار میں ان جاپانی جنگی مجرموں کے نام بھی شامل ہیں جنہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد اتحادی فوج کی عدالتوں نے سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی افواج کی طرف سے ایشیا کے کئی خطوں میں کیے جانے والے مظالم کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اس تناظر میں جب جاپانی رہنما یاسوکونی مزار کا دورہ کرتے ہیں، تو متاثرہ ممالک اسے جاپانی عسکریت پسندی کی تحسین اور جنگی جرائم سے چشم پوشی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مزار محض ایک مذہبی یا یادگاری مقام نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کا ایک انتہائی نازک نکتہ بن چکا ہے۔ جاپان کے اندر بھی اس مزار کی حیثیت پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف جہاں قوم پرست حلقے اسے جنگ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا روایتی اور قومی فریضہ قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف لبرل اور امن پسند حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگی مجرموں کی موجودگی کی وجہ سے اس مقام کی سرکاری سرپرستی ترک کر دی جانی چاہیے تاکہ علاقائی امن اور باہمی تعاون کو فروغ مل سکے۔