Technology
امریکہ کا 35 ممالک کو مصنوعی ذہانت پر امریکہ یا چین میں سے انتخاب کا حکم
امریکہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 35 ممالک کو واشنگٹن اور بیجنگ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ قدم عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک انتہائی اہم اور سخت قدم اٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ اب دنیا کے 35 ایسے ممالک کو واضح پیغام دینے جا رہا ہے جنہوں نے رواں سال جون میں امریکی 'اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ' پر دستخط کیے تھے۔ ان ممالک سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے حوالے سے واشنگٹن اور بیجنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ اس پالیسی کا مقصد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا اور اتحادی ممالک کو امریکی ٹیکنالوجی کے فریم ورک کے اندر رکھنا ہے۔ اندرونی دستاویزات کے مطابق، یہ خط جلد ہی متعلقہ ممالک کو ارسال کیا جائے گا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے معاملات میں دو رخی پالیسی اب قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس امریکی فیصلے سے ترقی پذیر اور درمیانی درجے کی معیشتوں پر شدید دباؤ بڑھے گا، جن کے تجارتی اور تکنیکی تعلقات چین کے ساتھ بھی گہرے ہیں۔ دوسری طرف، چین کی طرف سے بھی اس قسم کے دباؤ کے خلاف سخت ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ بیجنگ بھی عالمی سطح پر اپنے اے آئی سسٹمز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سفارتی پیشرفت کے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی منڈی اور بالخصوص ڈیجیٹل گورننس پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔