World
بحیرہ روم سرحد نہیں بلکہ پل ہے، کرس فرنے کا بیان
یورپی رہنماؤں کو ہجرت کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی سرحدوں سے باہر دیکھنا ہوگا۔ کرس فرنے کے مطابق بحیرہ روم کو تقسیم کی دیوار کے بجائے ایک رابطہ پل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
یورپی یونین کو ہجرت کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ بحران سے نمٹنے کے لیے اب روایتی اور محدود نظریات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار معروف رہنما کرس فرنے نے ایک اہم بیان میں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحیرہ روم کو کبھی بھی ایک بند سرحد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ خطہ یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک رابطہ پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق جب تک یورپ اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون نہیں بڑھاتا، اس وقت تک اس مسئلے کا کوئی پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا ناممکن ہوگا۔ کرس فرنے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہجرت کے محرکات میں غربت، تنازعات اور روزگار کے مواقع کی کمی شامل ہیں، جن کا حل صرف باہمی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق کرس فرنے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک میں تارکین وطن کی آمد کے معاملے پر سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے ممالک سخت گیر سرحدی پالیسیاں اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو انسانی بنیادوں پر بھی مسائل کو جنم دے رہی ہیں۔ کرس فرنے نے خبردار کیا ہے کہ صرف دیواریں کھڑی کرنے یا سمندری راستوں کو بند کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے بنیادی وجوہات پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ اس جامع اپروچ میں انسانی حقوق کا احترام، معاشی تعاون اور محفوظ قانونی راستوں کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہونا چاہیے۔