World
اسرائیلی وزیر بن گویر کا غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کا متنازع مطالبہ
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی نے غزہ میں رات کے وقت فلسطینیوں کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بیان پر عالمی سطح پر شدید مذمت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی اٹامر بن گویر نے ایک بار پھر انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے غزہ میں رات کے وقت فلسطینیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی المیے کو مزید سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اٹامر بن گویر اپنے متنازعہ بیانات اور سخت گیر موقف کے لیے جانے جاتے ہیں، تاہم تازہ ترین بیان میں انہوں نے کھلے عام فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے اور غزہ کے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی وکالت کی ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی غزہ کے اندر انسانی بحران انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے اور خوراک، ادویات اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے اس طرح کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی اشتعال انگیزی سے خطے میں امن کی بحالی کی تمام کوششیں سبوتاژ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ اس سے عام شہریوں کے تحفظ کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے اندر اور باہر بھی اس قسم کے انتہا پسندانہ نظریات پر تنقید کی جارہی ہے، لیکن وزیرِ قومی سلامتی کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بار بار دہرائے جانے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے مبصرین نے اس معاملے پر فوری عالمی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔