World
یوکرین کے روسی سیٹلائٹ نیٹ ورک اور فوجی اڈوں پر حملے
یوکرین نے روس کے اندر ایک فوجی ایئرفیلڈ اور راکٹ سینٹر پر طویل فاصلے سے حملے کیے ہیں جو روسی سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کو سپورٹ کرتے تھے۔ دوسری جانب ماسکو نے اس صورتحال میں مغربی ممالک سے آنے والے ہتھیاروں کے نئے پیکج کی نگرانی شروع کر دی ہے۔
یوکرین نے روس کے اندر گہرائی میں واقع اہم فوجی تنصیبات پر ایک بار پھر طویل فاصلے کے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ایک اہم فوجی ایئرفیلڈ اور ایک راکٹ سینٹر کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے، جو روسی فوج کے لیے اسٹارلنک کی طرز کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کی فراہمی اور معاونت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کارروائیوں سے روسی عسکری مواصلاتی نظام اور رسد کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ کیف کی یہ حکمت عملی روسی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
دوسری جانب، ماسکو کی جانب سے ان حملوں کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور روسی حکام نے ملک کی سرحدوں کی طرف آنے والے نئے مغربی ہتھیاروں کے پیکج کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کو ملنے والی مغربی عسکری امداد خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے اور اس سے جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ روسی عسکری قیادت مغربی ہتھیاروں کی اس کھیپ کو ناکام بنانے یا اس کا متبادل لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے مواصلاتی اور تکنیکی مراکز کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کیف اب روایتی محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ دشمن کی ڈیجیٹل اور نیٹ ورکنگ کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ اس جنگی حکمت عملی سے نہ صرف میدانی جنگ پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی برتری کی جنگ بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کے خطے کی مجموعی سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔