LIVE
Loading Breaking News...

ٹونی بلئر کے بیٹے کی جنگی سرگرمیاں اور خاندانی ورثہ

News Image
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئر کے صاحبزادے نک بلئر بھی اپنے والد کی طرح جنگی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ٹونی بلئر نے اپنے دور حکومت میں عراق جنگ کے ذریعے دنیا کو گمراہ کیا تھا اور اب ان کی اگلی نسل بھی اس روش کو آگے بڑھا رہی ہے۔
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئر کے دور حکومت کے سیاہ کارنامے آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں، جب انہوں نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی نام نہاد تلاش کے نام پر برطانیہ کو ایک غیر ضروری اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں معمعوم جانیں ضائع ہوئیں بلکہ خطے میں بدترین انارکی پھیل گئی۔ بعد ازاں یہ بھی سامنے آیا کہ کس طرح برطانوی کمپنیوں نے اس جنگ سے بھاری منافع کمایا اور جنگی سودے بازی میں اہم کردار ادا کیا۔ اب اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹونی بلئر کے صاحبزادے نک بلئر بھی اپنے خاندانی نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نک بلئر کی سرگرمیاں بھی اسی جنگی اور تجارتی گٹھ جوڑ کا تسلسل ہیں جس نے ماضی میں مشرق وسطیٰ کو خون میں نہلا دیا تھا۔ اگرچہ وقت اور حالات بدل چکے ہیں لیکن طاقتور اور با اثر شخصیات کے خاندان اب بھی جنگی معیشت اور مفادات کے حصول کے لیے پرانے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹونی بلئر کا خاندان ہمیشہ سے سیاست اور تجارت کے اس خطرناک امتزاج کا علمبردار رہا ہے جہاں قومی مفاد کی آڑ میں ذاتی تجوریوں کو بھرا جاتا ہے۔ عراق جنگ کے تلخ حقائق آج بھی برطانوی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور اب نک بلئر کی سرگرمیوں نے اس پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کس طرح چند مخصوص خاندان سیاسی طاقت کو اپنے اقتصادی فوائد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔