LIVE
Loading Breaking News...

اے ایم ڈی اور اسپیس ایکس کی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل

News Image
اے ایم ڈی کی جانب سے اسپیس ایکس میں چھپن کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری نے اسٹارلینک اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کے فروغ پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ اس اقدام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کمپنی کا یہ قدم مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی چپ کے معاہدوں سے ہٹ کر خلکی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا داؤ ہے۔
معروف ٹیکنالوجی کمپنی اے ایم ڈی نے اسپیس ایکس میں پچھلے دنوں پچپن کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس نے دنیا بھر کے کاروباری اور تکنیکی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اس سرمایہ کاری کو ماہرین اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے چپ آرڈرز کے پس منظر میں ایک اہم اور مختلف سمت کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ ایلون مسک پہلے ہی یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ اسپیس ایکس کے اے آئی سے متعلقہ چپ کے تمام بڑے اور اہم آرڈرز ایکسکلوسیو طور پر اینویڈیا کمپنی کے پاس ہیں۔ ایسے میں اے ایم ڈی کا اسپیس ایکس میں اتنی بڑی مالی حصص داری کا حصول دراصل اسٹارلینک اور خلکی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی طویل مدتی ترقی پر ایک اسٹریٹیجک داؤ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اے ایم ڈی نے حالیہ سہ ماہی میں ریکارڈ مالیاتی نتائج بھی پیش کیے ہیں جو کمپنی کی مستحکم معاشی حالت کا پتا دیتے ہیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اس وقت اینویڈیا کا پلڑا بھاری ہے اور تمام بڑی کمپنیاں اے آئی چپس کے حصول کے لیے اسی کا رخ کر رہی ہیں، لیکن اے ایم ڈی نے اپنے کاروبار کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے خلائی اور مواصلاتی شعبے کا رخ کیا ہے۔ اسپیس ایکس کا اسٹارلینک پروجیکٹ اس وقت دنیا بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور گلوبل کنیکٹیویٹی کی سب سے بڑی علامت بن چکا ہے، اور اس نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کرنے سے اے ایم ڈی کو مستقبل میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی انفراسٹرکچر سے براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سرمایہ کاری کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ دنیا کے سب سے بڑے خلائی نیٹ ورک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ چونکہ مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق دونوں ہی مستقبل کے سب سے بڑے معاشی محرکات ہیں، اس لیے اے ایم ڈی کا یہ قدم کمپنی کے مستقبل کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کمپنیاں اب صرف ایک ہی شعبے یعنی روایتی کمپیوٹر چپس یا اے آئی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے دائرہ کار کو وسیع کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہ سکیں۔ آنے والے دنوں میں اس سرمایہ کاری کے مزید مثبت اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔