LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت، ایلون مسک کی حیرت انگیز پیشگوئی

News Image
ایلون مسک نے اپنے ملازمین کو بتایا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں مصنوعی ذہانت اسپیس ایکس کی کامیابی اور مالیت کا بنیادی ستون بن جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کی کل ویلیو کا ننانوے فیصد حصہ اے آئی ٹیکنالوجی سے جڑ جائے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ترین نام اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے حال ہی میں اپنے ملازمین کے ساتھ ایک اہم اندرونی میٹنگ میں حیرت انگیز پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) آنے والے چند برسوں میں کمپنی کی مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی اور اس کی مالیاتی حیثیت میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ایلون مسک کے مطابق، محض پانچ سال کے مختصر عرصے میں اسپیس ایکس کی کل مالیت کا ننانوے فیصد حصہ مصنوعی ذہانت سے جڑ جائے گا، جو کہ ایک انقلابی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسپیس ایکس جو کہ روایتی طور پر راکٹ سازی اور خلائی مشنز کے لیے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے، اب ڈیجیٹل اور جدید ترین کمپیوٹر سسٹمز کی طرف گامزن ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ خلائی سفر کی پیچیدگیوں، سیٹلائٹس کے نظام اور خلائی جہازوں کی خودکار پروازوں کے لیے انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ جدید ترین الگورتھمز اور اے آئی ماڈلز کی اشد ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ اب مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے بخوبی نبرد آزما ہوا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کا یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے دور میں وہ صرف ہارڈویئر یعنی راکٹ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف اسپیس ایکس کے کاروباری ماڈل میں بلکہ پوری خلائی صنعت میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہو جائے گا۔ کمپنی کے اندرونی حلقے بھی اس نئی حکمت عملی پر تیزی سے عمل پیرا ہیں اور مختلف پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔