World
یمن حوثی حملہ سعودی عرب تیل بردار جہاز بحیرہ احمر
یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اس خطے میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر بحیرہ احمر میں کشیدہ صورتحال کو ہوا دیتے ہوئے سعودی عرب کے تیل بردار جہاز پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی سمندری راستوں پر اس طرح کے حملے عالمی تجارت اور بالخصوص مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
حوثی گروپ کی جانب سے حال ہی میں بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستوں پر سعودی عرب کے خلاف باضابطہ بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی اعلان کے تسلسل میں اب کئی تیل بردار جہازوں کو براہ راست نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حوثی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے جاری کردہ عسکری اہداف کا حصہ ہیں، جن کا مقصد خطے میں مخالف فریقین پر دباؤ بڑھانا ہے۔
اس صورتحال نے خطے میں ایک نئی عسکری محاذ آرائی کا خطرہ پیدا کر دیا ہے جس پر عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سمندری امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بحری جہازوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔