Technology
سمندری گھاس کی تہہ سے اسٹرابیری کی تازگی برقرار رکھنے کا طریقہ دریافت
محققین نے سمندری گھاس پر مبنی ایک ایسی نئی حفاظتی تہہ تیار کی ہے جو اسٹرابیری کو بغیر فریج کے بھی طویل عرصے تک تازہ اور محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ ایجاد پھلوں کے ضیاع کو کم کرنے اور خوراک کے تحفظ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
تازہ پھلوں کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں محققین نے اسٹرابیری کو زیادہ دیر تک تازہ رکھنے کا ایک انوکھا اور سستا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ عام طور پر اسٹرابیری بہت جلد خراب ہو جاتی ہے اور چند ہی دنوں میں اس پر پھپھوندی لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر فریج میں رکھنا پڑتا ہے یا پھر پھینکنا پڑتا ہے۔ تاہم اب ماہرین نے سمندری گھاس سے بنی ایک ایسی حفاظتی تہہ تیار کی ہے جو اس عام مسئلے کا بہترین حل فراہم کرتی ہے۔
اس نئی تحقیق کے مطابق، سمندری گھاس سے ماخوذ اجزا پر مشتمل یہ بائیو کوٹنگ پھل کے اوپر ایک غیر مرئی اور محفوظ رکاوٹ بنا دیتی ہے۔ یہ رکاوٹ ہوا اور نمی کے اخراج کو کنٹرول کرتی ہے جس کی وجہ سے پھل کے اندرونی خلیات طویل عرصے تک تازہ رہتے ہیں۔ تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس تہہ کی بدولت اسٹرابیری کو عام درجہ حرارت پر بھی بغیر ریفریجریٹر کے کئی دنوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور اس کی ظاہری شکل اور ذائقہ بھی تبدیل نہیں ہوتا۔
فوڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف گھریلو سطح پر پھلوں کے ضیاع میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ زرعی صنعت اور سپلائی چین کو بھی زبردست فائدہ ہوگا۔ دنیا بھر میں پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل کے دوران ایک بڑا حصہ مناسب کولڈ چین نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے۔ اس قدرتی حفاظتی تہہ کے استعمال سے بین الاقوامی سطح پر پھلوں کی برآمدات کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا کیونکہ اب طویل سفر کے دوران بھی پھلوں کے گلنے سڑنے کا خدشہ کم ہو جائے گا۔
محققین اب اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر مارکیٹ میں لانے کے لیے مزید کام کر رہے ہیں تاکہ اسے عام کسانوں اور تاجروں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننے کے لیے بھی تجربات کیے جا رہے ہیں کہ آیا اس حفاظتی تہہ کو دیگر نازک پھلوں جیسے کہ رس بھری اور انگور پر بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ ماحول دوست اقدام پائیدار ترقی اور خوراک کے ضیاع کو روکنے کی عالمی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔