World
مکہ معاہدہ اور مشرق وسطی کا نیا سکیورٹی منظرنامہ
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدے پر عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سکیورٹی بلاک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اس کی حقیقت ظاہری منظر نامے سے مختلف ہے۔
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ایک ممکنہ دفاعی معاہدے پر بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ بعض مبصرین نے اسے 'مشرق کا نیٹو' قرار دینے کی کوشش کی ہے، تاہم حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ معاہدہ روایتی فوجی اتحاد سے کافی مختلف دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی قیادت میں مشرقِ وسطیٰ کے پرانے آرڈر کے زوال کے بعد یہ پیش رفت خطے میں نئے توازن کی تلاش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے حالیہ بیانات میں انکشاف کیا ہے کہ اس سہ فریقی دفاعی تعاون کے دائرہ کار میں مصر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ دوسری طرف، پاکستانی قیادت بالخصوص آصف علی زرداری نے بھی اس طرح کے سکیورٹی اور دفاعی اشتراک کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔ ان رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک دفاعی خود کفالت اور باہمی تعاون کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود، اس معاہدے کو نیٹو جیسا دفاعی ڈھانچہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ نیٹو کے برعکس، اس سمجھوتھے میں تاحال کوئی باضابطہ اجتماعی دفاعی شق یا مساوی عسکری انضمام کا میکانزم موجود نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات، دفاعی صنعتوں میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
مجموعی طور پر، مکہ معاہدہ یا اس نوعیت کے دیگر علاقائی اقدامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگرچہ اسے 'مشرق کا نیٹو' کہنا سیاسی مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے، لیکن اس سے خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک نئی سمت ضرور متعین ہو رہی ہے جس کے آنے والے وقتوں میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔