Politics
جماعت اسلامی کا مہنگائی اور پیٹرول قیمتوں پر گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنا
جماعت اسلامی نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر احتجاجی دھرنوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان مظاہروں کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ظالمانہ ٹیکسوں کی واپسی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے قابو مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک بھر میں باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اہم صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی جانب سے اتوار کے روز ملک گیر سطح پر پیٹرولیم لیوی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف آواز بلند کی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی کے اس احتجاج کا بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے عوام پر مسلط کردہ معاشی بوجھ کو کم کرانا اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینا ہے۔
لاہور سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران قیادت نے واضح کیا کہ موجودہ حکمران عوامی مسائل سے پوری طرح لاتعلق ہو چکے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں آکر عوام کا کچومر نکالا جا رہا ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس طوفان نے غریب اور متوسط طبقے کا جینا محال کر دیا ہے، جبکہ یوٹیلیٹی بلز اور پیٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے عام آدمی کی قوتِ خرید بالکل ختم ہو چکی ہے۔ جماعت اسلامی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس وقت تک پرامن جدوجہد جاری رکھے گی جب تک حکومت عوام دوست پالیسیاں اپنانے پر مجبور نہیں ہو جاتی۔
دوسری جانب امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گورنر ہاؤسز اور اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے حق میں شدید نعرے درج تھے۔ جماعت اسلامی کی اس ملک گیر تحریک نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دھرنے حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں مزید سیاسی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔