Pakistan
پاکستان میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، غیر ملکیوں کی ملک بدری کا فیصلہ
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم میں ملوث سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے گرفتار ہونے والے افراد کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جن میں سے 284 غیر ملکیوں کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک میں بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ، سائبر کرائم اور ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک بڑا اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں تین سو سے زائد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد نے پاکستان میں رہ کر بین الاقوامی آن لائن فراڈ نیٹ ورکس چلا رکھے تھے جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا تھا اور عام شہریوں کو مالی طور پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
ابتدائی کارروائیوں کے بعد عدالت نے گرفتار کیے گئے تمام غیر ملکی شہریوں کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے 284 غیر ملکی شہریوں کو تمام قانونی کارروائی اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک میں ملک بدر کیا جائے گا۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور سائبر کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا حصہ ہے۔
اس بڑے کریک ڈاؤن کے بعد سیکورٹی اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں گشت اور نگرانی مزید سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ ملک کو سائبر کرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کرنے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سخت اقدام سے بین الاقوامی جرائم پیشہ عناصر کو واضح پیغام ملے گا کہ پاکستان کی سرزمین کو مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔