World
جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، گیارہ افراد جاں بحق
جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آگئی ہے جس کے نتیجے میں گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ جون کے بعد سے لبنان پر ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی کے تمام معاہدوں کے باوجود اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملوں میں اچانک شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے ان تازہ ترین اور ہلاکت خیز فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جون کے مہینے کے بعد سے لبنان پر ہونے والے یہ سب سے خونریز حملے ہیں جن نے خطے میں ایک بار پھر امن کی تمام امیدوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق، ایک اکیلے اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان کے اندر سات افراد لقمہ اجل بنے، جب کہ مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے لبنان کے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی تلاش پر مجبور ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے اپنے اس مؤقف کا دفاع کیا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، جنوبی لبنان میں کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ہلاک یا مار گرایا گیا۔ تاہم، اس قسم کے حملے جنگ بندی کے اس نازک معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیے جا رہے ہیں جو بین الاقوامی برادری کی کوششوں سے طے پایا تھا۔
بین الاقوامی مبصرین نے جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے اسی طرح جاری رہے تو یہ محدود جھڑپیں ایک بار پھر ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔