World
ہنگامی فون الرٹ سے گھریلو تشدد کے متاثرین کے لیے خطرات پیدا ہوگئے
برطانیہ بھر میں لاکھوں موبائل فونز پر بھیجے جانے والے اچانک ہنگامی الرٹ نے گھریلو تشدد کی متاثرہ خواتین اور کمزور افراد کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا۔ فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پوشیدہ یا سیکنڈری فونز پر الرٹ آنے سے جانی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جمعہ کی رات لاکھوں موبائل فونز پر اچانک موصول ہونے والے ایک ہنگامی فون الرٹ نے جہاں عام شہریوں کو چونکا دیا، وہیں فلاحی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الرٹ خاص طور پر ان افراد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جو گھریلو تشدد یا بدسلوکی کا شکار ہیں اور وہ اپنے جابر ساتھیوں سے بچنے کے لیے خفیہ یا پوشیدہ موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ الرٹ یکدم تمام فونز پر بجا تو اس نے ان افراد کی پوشیدہ ڈیوائسز کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس سے ان کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ گئیں۔
فلاحی تنظیموں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے سسٹمز کو نافذ کرنے سے پہلے سماجی اور حفاظتی پہلوؤں پر گہرائی سے غور نہیں کیا گیا۔ گھریلو تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد اپنے پاس ایک اضافی فون چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ وہ ایمرجنسی کی صورت میں پولیس یا مددگار اداروں سے رابطہ کر سکیں۔ ایسے فونز عام طور پر سائلنٹ موڈ پر ہوتے ہیں یا انتہائی رازداری سے رکھے جاتے ہیں، لیکن اس تیز آواز اور وائبریشن والے قومی الرٹ نے ان تمام حفاظتی تدابیر کو ناکام بنا دیا اور ظالم ساتھیوں کو اس خفیہ ڈیوائس کی موجودگی کا علم ہو گیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر، ماہرین اور سماجی کارکنان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے تکنیکی اقدامات اٹھانے سے پہلے تمام ممکنہ خطرات کا تخمینہ لگایا جائے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے خصوصی ایس او پیز بنائے جائیں۔ اس واقعے نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی کا کوئی بھی نیا قدم اٹھاتے وقت معاشرے کے پسے ہوئے اور مظلوم طبقے کی حفاظت کو یقینی بنانا کتنا ضروری ہے۔ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس وقت ہنگامی بنیادوں پر نئی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ اس الرٹ کے منفی اثرات سے دوچار ہونے والے افراد کو بروقت معاونت فراہم کی جا سکے۔