Technology
ایسا کا پروبا-3 مشن اور مصنوعی سورج گرہن کے ذریعے شمسی تحقیق
یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کے جدید پروبا-3 مشن نے خلا میں مصنوعی سورج گرہن تخلیق کر کے سورج کے انتہائی کمزور کرہ ہوائی کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ اس انقلابی قدم سے سورج سے اٹھنے والی شمسی ہواؤں اور ان کے زمین پر اثرات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔
یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کا انتہائی اہم اور منفرد پروبا-3 مشن سورج کے گرد گردش کرنے والے کرہ ہوائی اور شمسی ہواؤں کے پراسرار مظاہر کو سمجھنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ اس جدید ترین مشن کے تحت خلا میں عین اسی وقت مصنوعی سورج گرہن تخلیق کیا جاتا ہے جب سورج کے بیرونی حصے کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ دو مختلف سیٹلائٹس پر مشتمل یہ سسٹم ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی درستگی کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے سورج کی روشنی کو روکتا ہے تاکہ سائنسی آلات سورج کے نچلے کرہ ہوائی کا صاف اور واضح مشاہدہ کر سکیں۔
خلائی سائنس دانوں کے مطابق سورج کا بیرونی حصہ جو کہ کورونا کہلاتا ہے، زمین پر موجود مواصلاتی نظام، سیٹلائٹس اور پاور گرڈز کو متاثر کرنے والی شمسی ہواؤں کا منبع ہوتا ہے۔ زمین پر قدرتی سورج گرہن کے دوران اس حصے کا مشاہدہ صرف چند منٹ کے لیے ممکن ہو پاتا ہے، جو کہ تحقیق کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔ تاہم پروبا-3 مشن کے ذریعے سائنس دانوں کو اب طویل عرصے تک مصنوعی گرہن کی سہولت حاصل ہو گئی ہے، جس کی مدد سے وہ سورج کی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور شمسی طوفانوں کی اصل وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
اس مشن کی کامیابی سے نہ صرف خلائی طوفانوں کی پیش گوئی کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ خلائی موسم کے حوالے سے انسانی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ سورج کی حرکیات کو سمجھنا اس لیے بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ شمسی شعاعیں اور مقناطیسی طوفان زمین کے ماحول اور خلائی اثاثوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین فلکیات پروبا-3 کی اس تاریخی کامیابی کو خلائی تحقیق کی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دے رہے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں کائنات کے کئی اور سربستہ راز بھی فاش ہونے کی توقع ہے۔