World
جامعہ ٹوکیو مالی خسارے کا شکار، جاپانی تعلیمی نظام زیر بحث
جاپان کی جامعہ ٹوکیو کو مالی سال 2026 میں اربوں ین کے خسارے کا سامنا ہے۔ یہ سنہ 2004 کے بعد پہلا موقع ہے جب اس ادارے کو مسلسل دوسرے سال مالیاتی گھاٹے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جاپان کی نامور اور سرفہرست جامعہ ٹوکیو کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران ادارے کو 4.4 ارب ین کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ صورتحال اس وقت تشویشناک شکل اختیار کر چکی ہے جب 2004 میں یونیورسٹی کے قومی کارپوریشن بننے کے بعد یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ اسے مسلسل دوسرے سال مالی گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ تعلیمی اور تحقیقی حلقوں میں اس مالی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جامعہ کو درپیش اس مالی بحران کی بنیادی وجوہات میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، عملے کی تنخواہوں میں اضافہ اور طویل عرصے سے چلے آ رہے ساختیاتی مسائل شامل ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے یونیورسٹی کے روزمرہ کے انتظامی اور تعلیمی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں آمدنی کے ذرائع محدود یا جمود کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعہ ٹوکیو جیسی اعلیٰ پائے کی درسگاہ کا خسارے میں جانا جاپان کے پورے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر اس ادارے کی تعلیمی اور تحقیقی برتری کو برقرار رکھا جا سکے اور مستقبل میں ایسے مالیاتی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔