LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں سائبر حملہ، ۳۸ لاکھ افراد کا ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ

News Image
امریکہ میں سافٹ ویئر کمپنی پر ہیکرز کے بڑے حملے کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ متاثرہ افراد کی سماجی سکیورٹی نمبرز اور طبی رپورٹس سمیت حساس معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکہ میں پیش آنے والے ایک بڑے سائبر سکیورٹی واقعے کے بعد لاکھوں شہریوں کی ذاتی اور طبی معلومات شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔ ایک اہم امریکی سافٹ ویئر اور ریونیو سائیکل فرم پر ہونے والے اس سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً اٹھتیس لاکھ سے زائد افراد کی نجی معلومات ہیکرز کی دسترس میں آسکتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے ملک بھر میں ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور متعلقہ اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے دفتر برائے سول رائٹس کو اس حملے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ فرم 'ان لمیٹڈ ٹیکنالوجی سسٹمز' کو اس سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو کہ ہیلتھ کیئر سیکٹر سے وابستہ ڈیٹا مینجمنٹ کے امور سر انجام دیتی ہے۔ اس حملے کے بعد ماہرین کی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لینے اور لیک ہونے والی معلومات کے دائرہ کار کا تعین کرنے میں مصروف ہیں تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سکیورٹی بریچ کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کے نام، سوشل سکیورٹی نمبرز، اور انتہائی حساس طبی ریکارڈز ہیکرز کے پاس جا سکتے ہیں۔ اس طرح کی ذاتی معلومات کا چوری ہونا نہ صرف شہریوں کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے شناخت چوری ہونے اور مالیاتی فراڈ کے خطرات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ متاثرہ افراد اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے متاثرہ شہریوں کو اس ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل سسٹمز کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے تباہ کن سائبر حملوں سے بچا جا سکے اور شہریوں کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔