Health
نوجوانوں میں ایس ٹی آئی میں اضافہ، آگاہی کی کمی قرار
ماہرین صحت نے نوجوانوں میں سیکوئلی ٹرانسمیٹڈ انفیکشنز یعنی ایس ٹی آئی میں بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ جنسی صحت کے موضوع پر کھلے عام بات چیت کا فقدان قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس حوالے سے معاشرتی ہچکچاہٹ نوجوانوں کو بروقت معلومات سے محروم کر رہی ہے۔
حالیہ طبی رپورٹس اور ماہرین صحت کی جانب سے کیے جانے والے انکشافات کے مطابق دنیا بھر کے نوجوانوں میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں (Sexually Transmitted Infections - STIs) کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پس منظر کا جائزہ لینے پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نوجوانوں میں ان بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ درست اور بروقت طبی معلومات کا فقدان ہے۔ معاشرتی اقدار، روایات اور خاندانی سطح پر اس نوعیت کے موضوعات پر کھل کر بات نہ کرنے کی وجہ سے نوجوان اکثر تاریکی میں رہتے ہیں اور وہ حفاظتی تدابیر سے ناواقف ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور گھروں میں جنسی صحت کے حوالے سے بات چیت کو ایک ٹیبو سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان کسی بھی انفیکشن یا علامت ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماریاں نہ صرف سنگین شکل اختیار کر جاتی ہیں بلکہ ان کے طویل المدتی منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ روایتی ہچکچاہٹ کو بالائے طاق رکھ کر نوجوانوں کو سائنسی بنیادوں پر صحت سے متعلق درست معلومات فراہم کی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے خصوصی آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان کسی بھی شرمندگی کے بغیر حفاظتی اقدامات اپنا سکیں اور اپنی صحت کو محفوظ رکھ سکیں۔ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ بلا جھجھک اپنی صحت کے مسائل پر بات کر سکیں، کیونکہ صرف کھلے مباحثے اور بروقت آگاہی کے ذریعے ہی اس بڑھتے ہوئے صحت عامہ کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔